“Ah, what is that thing for the sake of which / We detached our heart from everything and departed?”
افسوس، وہ کون سی ایسی چیز ہے جس کی خاطر ہم ہر ایک شے سے دل بیزار کر کے چل دیے۔
میر صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر وجود کے سب سے بڑے سوال پر انگلی رکھی ہے کہ آخر وہ کون سی منزل یا عشق تھا جس کے پیچھے ہم نے پوری دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ 'دل اٹھا کر چلے' کا استعارہ دنیا کی تمام رنگینیوں سے مکمل بے نیازی اور بیزاری کی تصویر کھینچتا ہے۔ یہ شعر روح کی اس گہری تلاش اور تنہائی کی داستان ہے جہاں انسان کسی ان دیکھی حقیقت کی خاطر سب کچھ نچھاور کر کے نکل پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
