“Just as petals fall and scatter from the rosebush, / even so into the garden of this world we came, and passed away.”
جس طرح گلاب کے پودے سے پھول جھڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم بھی اس دنیا کے باغ میں آئے اور رخصت ہو گئے۔
میرؔ تقی میر نے اس شعر میں انسانی زندگی کی ناپائیداری کو گلاب کی شاخ سے گرتی ہوئی پنکھڑیوں کے خوبصورت استعارے سے بیان کیا ہے۔ دنیا کو ایک چمن قرار دے کر وہ کہتے ہیں کہ ہم یہاں آئے اور پلک جھپکتے ہی رخصت ہو گئے، بالکل جیسے پھول خاموشی سے بکھر جاتا ہے۔ یہ شعر زندگی کی مختصر مہلت اور فنا کے درد کو بڑی نزاکت اور گہرائی کے ساتھ دلنشیں بناتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
