“Like dervishes we came, called out, and went our way; / 'Be happy, friend!'—we offered a blessing and went our way.”
ہم درویشوں کی طرح آئے، صدا لگائی اور رخصت ہو گئے؛ ہم بس یہ دعا دے کر چل دیے کہ اے میاں، تم ہمیشہ خوش رہو۔
میر تقی میر کا یہ لازوال شعر بے لوث محبت اور درویشانہ وقار کا شاندار نمونہ ہے۔ عاشق محبوب کی چوکھٹ پر کسی شکوے یا تقاضے کے بغیر ایک درویش کی طرح آتا ہے، اور بدلے میں کچھ پائے بنا فقط اس کی خوشی کی صدا لگا کر خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ یہ شعر بچھڑنے کے غم کو بھی ایک پاکیزہ دعا بنا دیتا ہے، جہاں محبوب کی خیریت ہی عاشق کا کل اثاثہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
