“Healing was never written in my fate, though I sought every remedy to the limits of my power.”
صحت یابی ہماری قسمت میں ہی نہیں تھی، ورنہ جہاں تک ہمارے بس میں تھا ہم نے ہر ممکن علاج کیا۔
یہ شعر اس گہرے دکھ کا آئینہ دار ہے جب انسان اپنی بساط بھر کوشش کر گزرے لیکن مقدر کے فیصلے کے آگے بے بس ہو جائے۔ شاعر نے بیماری اور دوا کے استعارے سے یہ واضح کیا ہے کہ اس نے زندگی اور عشق کے زخموں کو بھرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس میں کوئی تلخ شکوہ نہیں، بلکہ اپنی بے بسی کو باوقار انداز میں تسلیم کر لینے کا ایک دھیما سا ملال ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
