“I worshipped you so fervently, O idol, that in the eyes of all, I turned you into God before I took my leave.”
اے بت (محبوب)، میں نے تیری اس حد تک پرستش کی کہ جاتے جاتے سب کی نظروں میں تجھے خدا بنا دیا۔
میر تقی میر کا یہ شعر عشق کی اس انتہا کو بیان کرتا ہے جہاں سچی لگن ایک سنگ دل محبوب کو بھی دنیا کی نظروں میں معبود بنا دیتی ہے۔ شاعر نے محبوب کو ’بت‘ کہہ کر اس کی بے رخی کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن اپنی دیوانہ وار پرستش سے اسے سب کے سامنے خدا کے مرتبے پر فائز کر دیا۔ اس الوداعی انداز میں ایک گہرا ملال بھی چھپا ہے اور عاشقانہ فخر بھی، کہ دنیا جس کے آگے آج سر جھکاتی ہے، اسے یہ رفعت دراصل عاشق کے خلوص نے بخشی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
