“Fervent was the longing to visit your street; so now, bathed in blood, from here we depart.”
ہمیں تمہاری گلی میں آنے کی بہت آرزو تھی، سو اب ہم یہاں سے خون میں نہا کر جا رہے ہیں۔
میر تقی میرؔ کا یہ شعر عشق کے الم ناک انجام اور اس کی سنگینی کی ایک دلدوز تصویر ہے۔ عاشق کو اپنے محبوب کی گلی میں پہنچنے کی کتنی شدید آرزو تھی، لیکن یہ تمنا اتنی مہنگی پڑی کہ اسے زخموں سے چور اور اپنے ہی لہو میں نہا کر وہاں سے رخصت ہونا پڑا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ عشق کی راہ میں محبوب کا آستانہ اکثر دل کی بربادی اور جاں گداز قربانی کا سبب بنتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
