“My forehead wore away in ceaseless prostration; having paid the debt of devotion, I now take my leave.”
مسلسل سجدے کرتے کرتے میری پیشانی گھس گئی، اور ہم بندگی کا حق ادا کر کے جا رہے ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے عمر بھر کی ریاضت اور اطاعت کو ایک پردرد تصویر میں سمو دیا ہے، جہاں مسلسل سجدہ ریزی میں پیشانی تک گھس گئی ہے۔ اس میں ایک طرف تو بے لوث بندگی کی تھکن ہے اور دوسری طرف فرض کو پوری سچائی کے ساتھ نبھانے کا پُروقار اطمینان بھی۔ شاعر 'ادا کر چلے' کہہ کر دنیا سے ایک پُرسکون الوداع لے رہا ہے، گویا وہ یہ جتلا رہا ہو کہ بندگی کا جو قرض اس کے ذمے تھا، وہ اپنی ہستی مٹا کر اسے بے باق کر چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
