“You might have cast at least a hopeless glance; instead, you walked past, hiding even your face from me.”
کاش تم کم از کم مایوسی بھری ایک نظر ہی ہم پر ڈال لیتے، مگر تم تو ہم سے اپنا منہ بھی چھپا کر چلے گئے۔
اس شعر میں میر تقی میر نے مکمل بے رخی اور نظر اندازی کی کسک کو کمال سادگی سے بیان کیا ہے۔ عاشق شکوہ کرتا ہے کہ اگر محبت بھری نہیں، تو کم از کم مایوسی کی ہی ایک نگاہ ڈال دی ہوتی تاکہ ہمارے وجود کا بھرم تو قائم رہتا۔ مگر محبوب کا یوں منہ ہی چھپا کر گزر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عاشق کو ایک درد بھری جھلک دینے کے لائق بھی نہیں سمجھتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
