جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

“We, who once swore we could not live without you, depart at last, having fulfilled that vow.”

— میر تقی میر
معنی

ہم جو کبھی تمہارے بغیر نہ جینے کا دعویٰ کرتے تھے، اب جان دے کر اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں۔

تشریح

محبت میں لوگ اکثر روانی میں کہہ جاتے ہیں کہ 'ہم تیرے بنا جی نہیں پائیں گے'، مگر اس شعر میں عاشق اس دعوے کو اپنی جان دے کر سچ کر دکھاتا ہے۔ جدائی کے روگ میں جب زندگی دم توڑنے لگتی ہے، تو وہ محبوب سے کوئی شکوہ کرنے کے بجائے دھیمے لہجے میں بس اتنا کہتا ہے کہ دیکھو، ہم نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔ اس سادگی میں وفا کی وہ معراج چھپی ہے جہاں انسان محبت کا بھرم رکھنے کے لیے خاموشی سے دنیا چھوڑ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.