“A lifetime was spent bound to the craft of the ghazal / And so we depart, having raised this art to such great heights.”
ساری عمر غزل کہنے کی فکر اور ریاضت میں گزر گئی، اس لیے اب ہم اس فن کو اتنا بلند اور عظیم بنا کر یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔
میر تقی میر اس شعر میں اپنی عمر بھر کی ریاضت اور فن کے تئیں سچی وابستگی کا خوبصورت نچوڑ پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی کا تمام سرمایہ فکرِ غزل کی قید اور لفظوں کو موتی بنانے میں بیت گیا، مگر یہ کوئی پچھتاوا نہیں بلکہ ایک فخر ہے۔ اس بے لوث لگن کا انعام یہ ملا کہ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے وہ غزل کے فن کو عظمت کے ایسے بلند مقام پر چھوڑ کر جا رہے ہیں جہاں تک پہنچنا اب ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
