غزل

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 13 shers· radif: कर चले गए

یہ غزل محبوب کی اس پُراثر اور دلکش آمد کا بیان ہے جس نے شاعر کے خوابیدہ وجود کو بیدار کر دیا۔ ازلی حسن کی تجلی دکھا کر ان کا اچانک رخصت ہو جانا دل میں ہمیشہ کے لیے ایک میٹھا درد اور لازوال یاد چھوڑ جاتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आँखों में बस के दिल में समा कर चले गए ख़्वाबीदा ज़िंदगी थी जगा कर चले गए
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے خوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے
وہ میری آنکھوں میں بس کر اور دل میں سما کر چلے گئے، میری سوئی ہوئی زندگی کو بیدار کر کے وہ رخصت ہو گئے۔
2
हुस्न-ए-अज़ल की शान दिखा कर चले गए इक वाक़िआ' सा याद दिला कर चले गए
حسن ازل کی شان دکھا کر چلے گئے اک واقعہ سا یاد دلا کر چلے گئے
وہ لازوال حسن کی شان دکھا کر چلے گئے اور ایک یادگار واقعے کی یاد دلا گئے۔
3
चेहरे तक आस्तीन वो ला कर चले गए क्या राज़ था कि जिस को छुपा कर चले गए
چہرے تک آستین وہ لا کر چلے گئے کیا راز تھا کہ جس کو چھپا کر چلے گئے
وہ اپنے چہرے پر آستین لا کر چلے گئے؛ نہ جانے وہ کون سا راز تھا جسے وہ یوں چھپا کر چلے گئے۔
4
रग रग में इस तरह वो समा कर चले गए जैसे मुझी को मुझ से चुरा कर चले गए
رگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئے جیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے
وہ میری رگ رگ میں اس طرح بس کر چلے گئے، جیسے مجھے ہی مجھ سے چرا کر لے گئے ہوں۔
5
मेरी हयात-ए-इश्क़ को दे कर जुनून-ए-शौक़ मुझ को तमाम होश बना कर चले गए
میری حیات عشق کو دے کر جنون شوق مجھ کو تمام ہوش بنا کر چلے گئے
وہ میری زندگیٔ عشق کو چاہت کا جنون بخش کر چلے گئے اور مجھے سراپا ہوش بنا کر چھوڑ گئے۔
6
समझा के पस्तियाँ मिरे औज-ए-कमाल की अपनी बुलंदियाँ वो दिखा कर चले गए
سمجھا کے پستیاں مرے اوج کمال کی اپنی بلندیاں وہ دکھا کر چلے گئے
وہ میرے کمال کے عروج کو کمتر ثابت کر کے اور اپنی بلندیاں دکھا کر چلے گئے۔
7
अपने फ़रोग़-ए-हुस्न की दिखला के वुसअ'तें मेरे हुदूद-ए-शौक़ बढ़ा कर चले गए
اپنے فروغ حسن کی دکھلا کے وسعتیں میرے حدود شوق بڑھا کر چلے گئے
وہ اپنے حسن کی چمک اور وسعتیں دکھا کر میری طلب اور شوق کی حدوں کو وسیع کر کے چلے گئے۔
8
हर शय को मेरी ख़ातिर-ए-नाशाद के लिए आईना-ए-जमाल बना कर चले गए
ہر شے کو میری خاطر ناشاد کے لیے آئینۂ جمال بنا کر چلے گئے
وہ میرے اداس اور غمگین دل کے لیے کائنات کی ہر شے کو حسن و خوبصورتی کا آئینہ بنا کر چلے گئے۔
9
आए थे दिल की प्यास बुझाने के वास्ते इक आग सी वो और लगा कर चले गए
آئے تھے دل کی پیاس بجھانے کے واسطے اک آگ سی وہ اور لگا کر چلے گئے
وہ دل کی پیاس بجھانے آئے تھے لیکن اسے بجھانے کے بجائے ایک اور آگ لگا کر چلے گئے۔
10
आए थे चश्म-ए-शौक़ की हसरत निकालने सर-ता-क़दम निगाह बना कर चले गए
آئے تھے چشم شوق کی حسرت نکالنے سر تا قدم نگاہ بنا کر چلے گئے
وہ میری شوق بھری آنکھوں کی حسرت نکالنے آئے تھے، مگر مجھے سر سے لے کر پاؤں تک سراپا نگاہ بنا کر چلے گئے۔
11
अब कारोबार-ए-इश्क़ से फ़ुर्सत मुझे कहाँ कौनैन का वो दर्द बढ़ा कर चले गए
اب کاروبار عشق سے فرصت مجھے کہاں کونین کا وہ درد بڑھا کر چلے گئے
اب مجھے عشق کے معاملات سے فرصت کہاں مل سکتی ہے، کیونکہ وہ دونوں جہانوں کا غم اور بڑھا کر چلے گئے ہیں۔
12
शुक्र-ए-करम के साथ ये शिकवा भी हो क़ुबूल अपना सा क्यूँ न मुझ को बना कर चले गए
شکر کرم کے ساتھ یہ شکوہ بھی ہو قبول اپنا سا کیوں نہ مجھ کو بنا کر چلے گئے
آپ کے لطف و کرم کے شکر کے ساتھ یہ شکایت بھی قبول فرمائیں کہ آپ رخصت ہوتے ہوئے مجھے اپنے جیسا بنا کر کیوں نہیں گئے۔
13
लब थरथरा के रह गए लेकिन वो ऐ 'जिगर' जाते हुए निगाह मिला कर चले गए
لب تھرتھرا کے رہ گئے لیکن وہ اے جگرؔ جاتے ہوئے نگاہ ملا کر چلے گئے
ان کے ہونٹ صرف کانپ کر رہ گئے اور کچھ بول نہ سکے، لیکن اے جگر، وہ رخصت ہوتے ہوئے مجھ سے نظریں ملا کر چلے گئے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے | Sukhan AI