“Drawing a sleeve across their face, they turned and walked away; what was the secret kept concealed, that made them walk away?”
وہ اپنے چہرے پر آستین لا کر چلے گئے؛ نہ جانے وہ کون سا راز تھا جسے وہ یوں چھپا کر چلے گئے۔
یہ شعر ایک انتہائی دل گداز اور پُراسرار منظر پیش کرتا ہے، جہاں محبوب اپنے چہرے کو آستین کی اوٹ میں چھپا کر خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اردو شاعری میں آستین سے منہ چھپانا عموماً بہتے آنسوؤں، بے ساختہ حیا یا کسی ایسے دکھ کا اشارہ ہوتا ہے جسے زبان سے بیان کرنا ممکن نہ ہو۔ عاشق اسی بے چینی اور حسرت میں رہ جاتا ہے کہ آخر وہ کون سا ان کہی راز یا درد تھا جسے وہ دنیا سے چھپا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
