“Where is there respite for me now from love's ceaseless affairs? They have departed, having deepened the grief of both worlds.”
اب مجھے عشق کے معاملات سے فرصت کہاں مل سکتی ہے، کیونکہ وہ دونوں جہانوں کا غم اور بڑھا کر چلے گئے ہیں۔
شاعر یہاں عشق کو محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک ایسا نہ ختم ہونے والا 'کاروبار' قرار دیتے ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ محبوب رخصت ہوتے ہوئے ہجر کا ایسا صدمہ دے گیا ہے جو دونوں جہانوں (کونین) کے درد پر محیط ہے۔ اب عاشق کی ساری زندگی اسی لامتناہی غم کو سنبھالنے اور جھیلنے میں وقف ہو چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
