“Their lips merely trembled and fell still, yet O Jigar; as they departed, they locked their gaze with mine and walked away.”
ان کے ہونٹ صرف کانپ کر رہ گئے اور کچھ بول نہ سکے، لیکن اے جگر، وہ رخصت ہوتے ہوئے مجھ سے نظریں ملا کر چلے گئے۔
جگر مراد آبادی نے اس شعر میں الوداع کے ایک انتہائی پردرد اور نازک لمحے کو خوبصورتی سے قید کیا ہے۔ محبوب کے تھرتھراتے ہوئے لب بتاتے ہیں کہ دل میں جذبات کا طوفان تھا مگر وہ بول نہ سکے، لیکن جاتے ہوئے ان کا ایک بار نظریں ملا لینا ان تمام اَن کہی باتوں کو ادا کر گیا جو لفظوں کے بس میں نہیں تھیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
