آئے تھے چشم شوق کی حسرت نکالنے
سر تا قدم نگاہ بنا کر چلے گئے
“They came to quench the longing of an eager eye, yet turned me head to toe into a gaze, and departed.”
— جگر مرادآبادی
معنی
وہ میری شوق بھری آنکھوں کی حسرت نکالنے آئے تھے، مگر مجھے سر سے لے کر پاؤں تک سراپا نگاہ بنا کر چلے گئے۔
تشریح
عاشق کو گمان تھا کہ محبوب کے آنے سے آنکھوں کی دیرینہ پیاس بجھ جائے گی اور دل کی حسرت نکلے گی، مگر ماجرا ہی بدل گیا۔ محبوب آئے اور ایک ہی جھلک میں ایسا جادو جگایا کہ عاشق سر سے پاؤں تک سراپا نگاہ بن کر رہ گیا۔ پیاس بجھنے کے بجائے تشنگی اتنی بڑھ گئی کہ پورا وجود ہی ان کے دیدار کی پکار بن گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
