رگ رگ میں اس طرح وہ سما کر چلے گئے جیسے مجھی کو مجھ سے چرا کر چلے گئے

“They seeped into my every vein and took their leave, as though stealing me from myself, they slipped away.”

— جگر مرادآبادی
معنی

وہ میری رگ رگ میں اس طرح بس کر چلے گئے، جیسے مجھے ہی مجھ سے چرا کر لے گئے ہوں۔

تشریح

یہ شعر محبت کے اس گہرے اور پردرد احساس کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی یادیں انسان کے رگ و پے میں دوڑتی رہتی ہیں۔ شاعر نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ وہ رگوں میں اس قدر سما گئے کہ جدا ہوتے وقت میرا اپنا ہی وجود مجھ سے چرا لے گئے۔ اب حالت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ میں رہتے ہوئے بھی خود سے بےگانہ ہے، جیسے وہ اپنے ہی دل میں ایک اجنبی بن کر رہ گیا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.