غزل

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
مرزا غالب· Ghazal· 15 shers· radif: का

اس غزل میں غالب محبوب تک رسائی نہ پا سکنے کی ندامت اور اپنی عاجزی کو ہی ایک نذرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس میں انسانی بے بسی، پارسائی کے کھوکھلے دعووں اور تسلیم و رضا کے فلسفیانہ مضامین کو کمال مہارت سے باندھا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
पए-नज़्र-ए-करम तोहफ़ा है शर्म-ए-ना-रसाई का ब-खूँ-ग़ल्तीदा-ए-सद-रंग दा'वा पारसाई का
پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
آپ کی عنایت کے حضور نذر کے طور پر میرے پاس صرف نہ پہنچ سکنے کی ندامت کا تحفہ ہے، جبکہ میری پارسائی کا دعویٰ سو رنگ کے خون میں لت پت پڑا ہے۔
2
न हो हुस्न-ए-तमाशा-दोस्त रुस्वा बेवफ़ाई का ब-मोहर-ए-सद-नज़र साबित है दा'वा पारसाई का
نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
تماشا پسند حسن بے وفائی کے سبب رسوا نہ ہو، کیونکہ اس کی پارسائی کا دعویٰ تو سینکڑوں نگاہوں کی مہر سے ثابت ہے۔
3
ज़कात-ए-हुस्न दे ऐ जल्वा-ए-बीनिश कि मेहर-आसा चराग़-ए-ख़ाना-ए-दर्वेश हो कासा गदाई का
زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
اے بصارت کے جلوے، اپنے حسن کی زکوٰۃ دے تاکہ سورج کی مانند یہ کشکولِ گدائی اس درویش کے گھر کا روشن چراغ بن جائے۔
4
न मारा जान कर बे-जुर्म ग़ाफ़िल तेरी गर्दन पर रहा मानिंद-ए-ख़ून-ए-बे-गुनह हक़ आश्नाई का
نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
اے غافل! تو نے مجھے بے قصور جان کر قتل نہیں کیا، لیکن ہماری شناسائی اور محبت کا حق تیری گردن پر کسی بے گناہ کے خون کی طرح باقی رہا۔
5
तमन्ना-ए-ज़बान महव-ए-सिपास-ए-बे-ज़बानी है मिटा जिस से तक़ाज़ा शिकवा-ए-बे-दस्त-ओ-पाई का
تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
بولنے کی تمنا اب بے زبانی کے شکرانے میں گم ہے، کیونکہ اس خاموشی نے لاچاری کا گلہ شکوہ کرنے کا تقاضا ہی ختم کر دیا ہے۔
6
वही इक बात है जो याँ नफ़स वाँ निकहत-ए-गुल है चमन का जल्वा बाइ'स है मिरी रंगीं-नवाई का
وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
یہ وہی ایک بات ہے جو یہاں میری سانس ہے اور وہاں پھول کی خوشبو ہے؛ چمن کا حسن ہی میری رنگین نغمہ سرائی کا سبب ہے۔
7
दहान-ए-हर-बुत-ए-पैग़ारा-जू ज़ंजीर-ए-रुस्वाई अदम तक बेवफ़ा चर्चा है तेरी बेवफ़ाई का
دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائی عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
ہر طعنہ دینے والے محبوب کا منہ میری رسوائی کی زنجیر بن چکا ہے، اور اے بے وفا، تیری بے وفائی کا چرچا عدم کی دنیا تک پھیل گیا ہے۔
8
न दे नाले को इतना तूल 'ग़ालिब' मुख़्तसर लिख दे कि हसरत-संज हूँ अर्ज़-ए-सितम-हा-ए-जुदाई का
نہ دے نالے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
اے غالب، اپنی فریاد کو اتنا لمبا نہ کرو بلکہ مختصر لکھو، کیونکہ مجھے جدائی کے تمام مظالم بیان کرنے کی شدید آرزو ہے۔
9
जहाँ मिट जाए सई-ए-दीद ख़िज़्रआबाद-ए-आसाइश ब-जेब-ए-हर-निगह पिन्हाँ है हासिल रहनुमाई का
جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائش بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
جہاں دیدار کی کوشش ختم ہو جائے وہ خضر کے نگر جیسا جائے راحت بن جاتا ہے، اور وہاں رہنمائی کا اصل مقصد ہر نگاہ کے دامن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
10
ब-इज्ज़-आबाद वहम-ए-मुद्दआ तस्लीम-ए-शोख़ी है तग़ाफ़ुल को न कर मसरूफ़-ए-तम्कीं-आज़माई का
بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
بے بسی اور خواہشات کے وہم سے بھری اس بستی میں اطاعت و تسلیم بھی شوخی شمار ہوتی ہے؛ اس لیے اپنی بے رخی کو اپنے وقار اور تمکنت کی آزمائش میں مصروف مت کرو۔
11
'असद' का क़िस्सा तूलानी है लेकिन मुख़्तसर ये है कि हसरत-कश रहा अर्ज़-ए-सितम-हा-ए-जुदाई का
اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہے کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
اسد کی کہانی بہت لمبی ہے لیکن خلاصہ یہ ہے کہ وہ زندگی بھر جدائی کے مظالم اور دکھ بیان کرنے کی حسرت ہی میں رہا۔
12
हवस गुस्ताख़ी-ए-आईना तकलीफ़-ए-नज़र-बाज़ी ब-जेब-ए-आरज़ू पिन्हाँ है हासिल दिलरुबाई का
ہوس گستاخیٔ آئینہ تکلیف نظر بازی بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
خواہش آئینے کی مانند گستاخ بننے اور نظریں چرانے کی زحمت اٹھانے پر مجبور کرتی ہے، جبکہ دلربائی کا سارا ماحصل تو تمنا کی جیب میں ہی چھپا ہوا ہے۔
13
नज़र-बाज़ी तिलिस्म-ए-वहशत-आबाद-ए-परिस्ताँ है रहा बेगाना-ए-तासीर अफ़्सूँ आश्नाई का
نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہے رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
نظریں ملانا وحشت سے آباد پریستان کا ایک طلسم ہے، جبکہ باہمی شناسائی اور قربت کا جادو ہمیشہ بے اثر رہا۔
14
न पाया दर्दमंद-ए-दूरी-ए-यारान-ए-यक-दिल ने सवाद-ए-ख़त्त-ए-पेशानी से नुस्ख़ा मोम्याई का
نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نے سواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
مخلص دوستوں کی دوری سے غمزدہ انسان کو اپنے ماتھے پر لکھی قسمت کی تحریر میں بھی شفا اور علاج کا کوئی نسخہ نہ مل سکا۔
15
'असद' ये इज्ज़-ओ-बे-सामानी-ए-फ़िरऔन-ए-तौअम है जिसे तू बंदगी कहता है दा'वा है ख़ुदाई का
اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
اے اسد، تیری یہ عاجزی اور فرعون کی بے سر و سامانی باہم جڑواں ہیں؛ جسے تو بندگی سمجھتا ہے، وہ دراصل خدائی کا دعویٰ ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا | Sukhan AI