“Where the striving to behold dissolves in Khizr's haven of rest, in the fold of every glance lies hid guidance's truest quest.”
جہاں دیدار کی کوشش ختم ہو جائے وہ خضر کے نگر جیسا جائے راحت بن جاتا ہے، اور وہاں رہنمائی کا اصل مقصد ہر نگاہ کے دامن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
شاعر یہاں بڑی خوبصورت بات سمجھاتے ہیں کہ اصل رہنمائی باہر کی بے تاب تلاش میں نہیں، بلکہ نگاہ کے اندرونی سکون میں ہے۔ جب دید کی بے چین دوڑ دھوپ ختم ہو کر ٹھہر جاتی ہے، تو وہی خاموشی حضرتِ خضر کی پرامن بستی بن جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ رہنمائی کا اصل حاصل اور مقصد کہیں دور نہیں، بلکہ خود ہماری نگاہ کے دامن میں چھپا بیٹھا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
