“Knowing me guiltless, you spared my life, O heedless one; yet upon your neck remains the debt of our love, heavy as an innocent's shed blood.”
اے غافل! تو نے مجھے بے قصور جان کر قتل نہیں کیا، لیکن ہماری شناسائی اور محبت کا حق تیری گردن پر کسی بے گناہ کے خون کی طرح باقی رہا۔
اس شعر میں عاشق اپنے غافل محبوب سے کہتا ہے کہ تو نے مجھے بے قصور جان کر قتل تو نہ کیا، مگر الفت کے تقاضے پسِ پشت ڈال کر اپنے آپ کو بے داغ بھی نہ رکھ سکا۔ محبت کا حق نہ ادا کرنا دراصل ایک ایسا اخلاقی بوجھ ہے جو اب تیری گردن پر کسی بے گناہ کے خون کے وبال کی طرح سوار ہے۔ جان بخش دینے کے بعد بھی تعلق اور چاہت کا یہ قرض تم پر ہمیشہ قائم رہے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
