“Let not beauty that craves a public spectacle be shamed for infidelity; verified by the seal of a hundred gazing eyes is its claim to chastity.”
تماشا پسند حسن بے وفائی کے سبب رسوا نہ ہو، کیونکہ اس کی پارسائی کا دعویٰ تو سینکڑوں نگاہوں کی مہر سے ثابت ہے۔
اس شعر میں شاعر نے بڑے لطیف اور گہرے طنز کے ساتھ اس حسن کی خود نمائی پر چوٹ کی ہے جسے محفل میں تماشا بننے کا شوق تو ہے، مگر وہ پارسائی اور پاک دامنی کا دعویٰ بھی نہیں چھوڑتا۔ شاعر مسکرا کر کہتا ہے کہ محبوب کے پرہیزگار ہونے کا ثبوت بھی خوب ہے، جس کی تصدیق سینکڑوں تماشائیوں کی لگی ہوئی نظروں کی مہر نے کر رکھی ہے۔ یہ خود پسندی اور پاکبازی کے اس تضاد کا ایک نہایت خوبصورت اور کاٹ دار نقشہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
