“The mocking lips of every idol forge a chain of my disgrace; O faithless one, even to non-existence echoes the tale of your unfaithfulness.”
ہر طعنہ دینے والے محبوب کا منہ میری رسوائی کی زنجیر بن چکا ہے، اور اے بے وفا، تیری بے وفائی کا چرچا عدم کی دنیا تک پھیل گیا ہے۔
شاعر فرماتے ہیں کہ طعنے دینے والے ہر بت کا منہ دراصل میری رسوائی کی زنجیر کی ایک کڑی بن چکا ہے، جس نے مجھے ہر طرف سے جکڑ رکھا ہے۔ وہ اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تمہاری بے وفائی کی داستان صرف اس بزم تک محدود نہیں، بلکہ اس کا چرچا عالمِ عدم کے سناٹوں تک جا پہنچا ہے۔ یہ شعر دل ٹوٹنے کے اس دکھ کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی بے رخی عاشق کو دنیا بھر میں تماشا اور مستقل فسانہ بنا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
