وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہے چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا

“It is the selfsame essence that is breath here, and the rose's perfume there; The garden's radiant splendor is the cause of my melody's vibrant flair.”

— مرزا غالب
معنی

یہ وہی ایک بات ہے جو یہاں میری سانس ہے اور وہاں پھول کی خوشبو ہے؛ چمن کا حسن ہی میری رنگین نغمہ سرائی کا سبب ہے۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں انسان اور فطرت کی وحدت کو نہایت خوبصورت اور لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔ جو سانس اور نغمہ ہمارے سینے سے نکلتا ہے، وہی حقیقت میں چمن کے پھولوں میں خوشبو بن کر مہک رہا ہے۔ باغ کا یہ دلکش نظارہ ہی دراصل شاعر کی شاعری کو رنگین بناتا ہے، یعنی کائنات کا حسن اور دل کا احساس ایک ہی سچائی کے دو رُخ ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.