“As an offering for your grace, I present the shame of failing to arrive; drenched in a hundred hues of blood lies my proud claim to piety.”
آپ کی عنایت کے حضور نذر کے طور پر میرے پاس صرف نہ پہنچ سکنے کی ندامت کا تحفہ ہے، جبکہ میری پارسائی کا دعویٰ سو رنگ کے خون میں لت پت پڑا ہے۔
غالب اس شعر میں اپنی تمام تر عاجزی اور انا کی شکست کو محبوب کے حضور نذر کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے لطف و کرم کے مقابلے میں میرے پاس لانے کو کچھ نہیں، سوائے اپنی کوتاہی اور منزل تک نہ پہنچ پانے کی شرمندگی کے۔ رہی بات پارسائی اور نیکی کے دعووں کی، تو وہ اس عظمت کے روبرو شرمسار ہو کر خون میں لت پت ہو چکے ہیں، کیونکہ عشق کے دربار میں سب سے پہلے خود پسندی کا ہی خون ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
