“In this humble realm of phantom desire, surrender itself seems audacity; burden not your aloof indifference with testing your own poise.”
بے بسی اور خواہشات کے وہم سے بھری اس بستی میں اطاعت و تسلیم بھی شوخی شمار ہوتی ہے؛ اس لیے اپنی بے رخی کو اپنے وقار اور تمکنت کی آزمائش میں مصروف مت کرو۔
غالب اس شعر میں اپنی عاجزی اور محبوب کی شانِ بے نیازی کا بڑا نازک اور گہرا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بے بسی کی اس دنیا میں، جہاں کوئی تمنا پالنا بھی محض ایک سراب ہے، ہمارا جھکنا اور التجا کرنا بھی گستاخی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اے محبوب، اپنے تغافل اور بے رخی کو اپنا وقار آزمانے کی مشقت میں مت تھکاؤ؛ ہماری ہستی تو اتنی بے مایہ ہے کہ ہمیں نظر انداز کرنے کے لیے بھی تمہیں اتنے تکلف کی ضرورت نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
