“The tale of Asad is long, yet in brief it comes to this: he lived ever yearning to recount the cruelties of separation.”
اسد کی کہانی بہت لمبی ہے لیکن خلاصہ یہ ہے کہ وہ زندگی بھر جدائی کے مظالم اور دکھ بیان کرنے کی حسرت ہی میں رہا۔
غالبؔ نے اپنی زندگی کی طویل اور بکھری ہوئی داستانِ غم کو کمال سادگی سے چند لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قصہ تو بہت لمبا ہے مگر خلاصہ بس اتنا ہے کہ عمر بھر ہجر کے زخم سہتے ہوئے صرف یہی حسرت رہی کہ کاش محبوب کے سامنے اپنے درد کا شکوہ کر سکتے۔ اصل المیہ فقط جدائی کی تکلیف نہیں، بلکہ یہ دل دہلا دینے والی تنہائی ہے کہ انسان کا دکھ سننے والا کوئی میسر نہ آیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
