“The longing for a voice is lost in thanks for speechlessness, / which wiped away the urge to mourn my utter helplessness.”
بولنے کی تمنا اب بے زبانی کے شکرانے میں گم ہے، کیونکہ اس خاموشی نے لاچاری کا گلہ شکوہ کرنے کا تقاضا ہی ختم کر دیا ہے۔
شاعر یہاں خاموشی کی ایک پرسکون اور انوکھی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ اکثر انسان اپنی بے بسی اور مجبوری کا رونا رونے کے لیے الفاظ چاہتا ہے، لیکن بعض اوقات بے زبانی ہی سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے۔ جب بولنے کی خواہش خاموشی کے شکر میں بدل جائے، تو اپنی لاچاری کا گلہ شکوہ کرنے کی تڑپ بھی ختم ہو جاتی ہے اور دل کو ایک باوقار قرار ملتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
