زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا چراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا

“Bestow the alms of beauty, O radiant vision, so that sun-like, the begging bowl may turn into a lamp for this dervish's humble cell.”

— مرزا غالب
معنی

اے بصارت کے جلوے، اپنے حسن کی زکوٰۃ دے تاکہ سورج کی مانند یہ کشکولِ گدائی اس درویش کے گھر کا روشن چراغ بن جائے۔

تشریح

غالبؔ اس شعر میں خود کو ایک درویش کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو محبوبِ حقیقی کے سامنے اپنا کشکول پھیلائے بیٹھا ہے۔ وہ التجا کرتے ہیں کہ اپنے حسن کی زکوٰۃ کے طور پر ایک جھلک عطا کر دو، تاکہ یہ گدائی کا پیالہ آفتاب کی طرح دمک کر درویش کے تاریک خانے کو منور کر دے۔ یہ محض حسن کی طلب نہیں، بلکہ محبوب کے ایک ہی جلوے سے اپنی ویران اور اندھیری دنیا کو روشن کرنے کی پُرخلوص خواہش ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.