“O Asad, this helpless destitution is twin to Pharaoh's pride; what you profess as humble worship is a claim to the divine.”
اے اسد، تیری یہ عاجزی اور فرعون کی بے سر و سامانی باہم جڑواں ہیں؛ جسے تو بندگی سمجھتا ہے، وہ دراصل خدائی کا دعویٰ ہے۔
غالبؔ یہاں انسان کے باطن کی ایک عجیب و غریب حقیقت کھولتے ہیں کہ بسا اوقات حد سے بڑھی ہوئی عاجزی بھی انا کا ہی ایک روپ بن جاتی ہے۔ وہ خود کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جس بے بسی اور مسکینی کو تم بندگی سمجھ رہے ہو، وہ کہیں فرعون کے تکبر کی جڑواں بہن تو نہیں۔ سچی بندگی میں اپنی کم مائیگی کا بھی غلغلہ نہیں ہوتا، ورنہ یہی انکساری چھپے ہوئے غرور اور خود پسندی میں بدل جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
