غزل
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
یہ غزل محبوب کے حسن میں آنے والی تبدیلیوں کو حسرت کے ساتھ بیان کرتی ہے، جہاں چہرے پر خطِ رُخسار کے نمودار ہونے کو بجھی ہوئی شمع کے دھوئیں سے تشبیہ دی گئی ہے، گویا محبوب کے بازارِ حُسن میں ٹھنڈک آ گئی ہے۔ شاعر اپنے دلِ ناعاقبت اندیش کو شوق پر ضبط رکھنے کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ محبوب کے جلوۂ دیدار کی تاب لانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
आमद-ए-ख़त से हुआ है सर्द जो बाज़ार-ए-दोस्त
दूद-ए-शम'-ए-कुश्ता था शायद ख़त-ए-रुख़्सार-ए-दोस्त
آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
دود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست
آمدِ خط سے جو محبوب کی کشش سرد پڑ گئی ہے، شاید رخسار پر وہ خط کسی بجھی ہوئی شمع کا دھواں تھا۔
2
ऐ दिल-ए-ना-आक़िबत-अंदेश ज़ब्त-ए-शौक़ कर
कौन ला सकता है ताब-ए-जल्वा-ए-दीदार-ए-दोस्त
اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کر
کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
اے بے فکر دل، اپنی آرزو کو قابو میں رکھ۔ دوست کے جلوے دیدار کی تاب کون لا سکتا ہے؟
3
ख़ाना-वीराँ-साज़ी-ए-हैरत तमाशा कीजिए
सूरत-ए-नक़्श-ए-क़दम हूँ रफ़्ता-ए-रफ़्तार-ए-दोस्त
خانہ ویراں سازی حیرت تماشا کیجیے
صورت نقش قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست
حیرت کے ذریعے گھر کو ویران کرنے کا تماشا دیکھئے۔ میں تو محبوب کی تیز رفتار کے باعث پیچھے رہ جانے والا ایک نقش قدم ہوں۔
4
इश्क़ में बेदाद-ए-रश्क-ए-ग़ैर ने मारा मुझे
कुश्ता-ए-दुश्मन हूँ आख़िर गरचे था बीमार-ए-दोस्त
عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
عشق میں مجھے رقیب کی حسد کی بے رحمی نے مار ڈالا۔ آخرکار میں دشمن کا مقتول ہوں، حالانکہ میں دوست (محبوب) کے لیے بیمار تھا۔
5
चश्म-ए-मा रौशन कि उस बेदर्द का दिल शाद है
दीदा-ए-पुर-ख़ूँ हमारा साग़र-ए-सरशार-ए-दोस्त
چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
دیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست
میری آنکھیں روشن ہیں کیونکہ اس بیدرد کا دل خوش ہے۔ ہماری خون بھری نظریں دوست کا چھلکتا ہوا ساغر ہیں۔
6
ग़ैर यूँ करता है मेरी पुर्सिश उस के हिज्र में
बे-तकल्लुफ़ दोस्त हो जैसे कोई ग़म-ख़्वार-ए-दोस्त
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
میرا رقیب اس کی جدائی میں میرا حال یوں پوچھتا ہے، جیسے وہ میرا کوئی بے تکلف دوست یا میرے غم کا شریک ہو۔
7
ताकि मैं जानूँ कि है उस की रसाई वाँ तलक
मुझ को देता है पयाम-ए-वादा-ए-दीदार-ए-दोस्त
تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
مجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست
وہ مجھے دوست کے دیدار کے وعدے کا پیغام دیتا ہے، تاکہ میں جان سکوں کہ اس کی رسائی وہاں تک ہے۔
8
जब कि मैं करता हूँ अपना शिकवा-ए-ज़ोफ़-ए-दिमाग़
सर करे है वो हदीस-ए-ज़ुल्फ़-ए-अंबर-बार-ए-दोस्त
جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
سر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست
جب میں اپنے دماغ کی کمزوری کا شکوہ کرتا ہوں، تو وہ محبوب کی عنبر بار زلفوں کی کہانی چھیڑ دیتی ہے۔
9
चुपके चुपके मुझ को रोते देख पाता है अगर
हँस के करता है बयान-ए-शोख़ी-ए-गुफ़्तार-ए-दोस्त
چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست
اگر وہ مجھے چپ چاپ روتے ہوئے دیکھتا ہے، تو وہ ہنس کر محبوب کی شوخ گفتگو کا ذکر کرتا ہے۔
10
मेहरबानी-हा-ए-दुश्मन की शिकायत कीजिए
ता बयाँ कीजे सिपास-ए-लज़्ज़त-ए-आज़ार-ए-दोस्त
مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
تا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست
دشمن کی مہربانیوں کی شکایت کیجیے، تاکہ آپ دوست (محبوب) کے دیے ہوئے درد کی لذت کے لیے شکر گزاری کا اظہار کر سکیں۔
11
ये ग़ज़ल अपनी मुझे जी से पसंद आती है आप
है रदीफ़-ए-शेर में 'ग़ालिब' ज़ि-बस तकरार-ए-दोस्त
یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
مجھے اپنی یہ غزل اپنے دل سے پسند آتی ہے، غالب، کیونکہ شعر کی ردیف میں بس لفظ 'دوست' کی ہی تکرار ہے۔
12
चश्म-ए-बंद-ए-ख़ल्क़ जुज़ तिमसाल-ए-ख़ुद-बीनी नहीं
आइना है क़ालिब-ए-ख़िश्त-ए-दर-ओ-दीवार-ए-दोस्त
چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
آئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست
مخلوق کی بند آنکھ اپنی خود بینی کی تصویر کے سوا کچھ نہیں دیکھتی۔ دوست کے دروازے اور دیوار کی اینٹوں کا قالب ایک آئینہ ہے۔
13
बर्क़-ए-ख़िर्मन-ज़ार गौहर है निगाह-ए-तेज़ याँ
अश्क हो जाते हैं ख़ुश्क अज़-गरमी-ए-रफ़्तार-ए-दोस्त
برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
اشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست
یہاں ایک تيز نگاہ موتی ہے اور فصل کے میدان پر بجلی کی طرح ہے۔ محبوب کی رفتار کی گرمی سے آنسو خشک ہو جاتے ہیں۔
14
है सवा नेज़े पे उस के क़ामत-ए-नौ-ख़ेज़ से
आफ़्ताब-ए-सुब्ह-ए-महशर है गुल-ए-दस्तार-ए-दोस्त
ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سے
آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
اس کے نوخیز قامت سے سورج سوا نیزے کی بلندی پر ہے۔ صبحِ محشر کا آفتاب تو دوست کی دستار کا صرف ایک پھول ہے۔
15
ऐ अदू-ए-मस्लहत चंद ब-ज़ब्त अफ़्सुर्दा रह
करदनी है जम्अ' ताब-ए-शोख़ी-ए-दीदार-ए-दोस्त
اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
اے مصلحت کے دشمن، تھوڑی دیر کے لیے ضبط کے ساتھ افسردہ رہو۔ محبوب کے دیدار کی شوخی برداشت کرنے کے لیے طاقت جمع کرنی ہے۔
16
लग़्ज़िश-ए-मस्ताना ओ जोश-ए-तमाशा है 'असद'
आतिश-ए-मय से बहार-ए-गरमी-ए-बाज़ार-ए-दोस्त
لغزش مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔ
آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
اسد، یہ مستانہ لڑکھڑاہٹ اور تماشے کا جوش ہے۔ شراب کی آگ سے دوست کے بازار میں گرمی کی بہار آتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
