चश्म-ए-बंद-ए-ख़ल्क़ जुज़ तिमसाल-ए-ख़ुद-बीनी नहीं
आइना है क़ालिब-ए-ख़िश्त-ए-दर-ओ-दीवार-ए-दोस्त
“The world's closed eye sees naught but self-adoration's grace;A mirror is the brick-form of the friend's door and place.”
— مرزا غالب
معنی
مخلوق کی بند آنکھ اپنی خود بینی کی تصویر کے سوا کچھ نہیں دیکھتی۔ دوست کے دروازے اور دیوار کی اینٹوں کا قالب ایک آئینہ ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
