ऐ दिल-ए-ना-आक़िबत-अंदेश ज़ब्त-ए-शौक़ कर
कौन ला सकता है ताब-ए-जल्वा-ए-दीदार-ए-दोस्त
“O imprudent heart, restrain your fervent desire, hear me now, For who can endure the glory of the beloved's sight, or know how?”
— مرزا غالب
معنی
اے بے فکر دل، اپنی آرزو کو قابو میں رکھ۔ دوست کے جلوے دیدار کی تاب کون لا سکتا ہے؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
