غزل
یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
اس غزل میں محبوب کی نزاکت، دبی دبی ہنسی اور دلکش ادائیں خوبصورتی سے بیان کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی عاشق کے دل کے سوز اور تڑپ کی عکاسی کرتے ہوئے محبت کی دھیمی اور گہری کیفیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ये बात बात में क्या नाज़ुकी निकलती है
दबी दबी तिरे लब से हँसी निकलती है
یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
دبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے
تمہاری ہر بات میں کیسی نزاکت ظاہر ہوتی ہے، اور تمہارے ہونٹوں سے دبی دبی ہنسی نکلتی ہے۔
2
ठहर ठहर के जला दिल को एक बार न फूँक
कि इस में बू-ए-मोहब्बत अभी निकलती है
ٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بار نہ پھونک
کہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے
دل کو رک رک کر آہستہ آہستہ جلاؤ، اسے ایک ہی بار میں مت پھونک دو، کیونکہ ابھی اس میں سے محبت کی خوشبو نکل رہی ہے۔
3
बजाए शिकवा भी देता हूँ मैं दुआ उस को
मिरी ज़बाँ से करूँ क्या यही निकलती है
بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو
مری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے
شکوہ کرنے کے بجائے بھی میں اسے دعا ہی دیتا ہوں؛ میں کیا کروں، میری زبان سے بس یہی نکلتی ہے۔
4
ख़ुशी में हम ने ये शोख़ी कभी नहीं देखी
दम-ए-इताब जो रंगत तिरी निकलती है
خوشی میں ہم نے یہ شوخی کبھی نہیں دیکھی
دم عتاب جو رنگت تری نکلتی ہے
ہم نے خوشی کے وقت کبھی وہ شوخی اور نکھار نہیں دیکھا جو غصے کی حالت میں تمہارے چہرے پر نکل آتا ہے۔
5
हज़ार बार जो माँगा करो तो क्या हासिल
दुआ वही है जो दिल से कभी निकलती है
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل
دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے
ہزار بار مانگنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا، کیوں کہ سچی دعا وہی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔
6
अदा से तेरी मगर खिंच रहीं हैं तलवारें
निगह निगह से छुरी पर छुरी निकलती है
ادا سے تیری مگر کھنچ رہیں ہیں تلواریں
نگہ نگہ سے چھری پر چھری نکلتی ہے
تمہاری ناز و ادا کی وجہ سے تلواریں کھنچ رہی ہیں اور تمہاری ہر نگاہ سے چھری پر چھری چل رہی ہے۔
7
मुहीत-ए-इश्क़ में है क्या उमीद ओ बीम मुझे
कि डूब डूब के कश्ती मिरी निकलती है
محیط عشق میں ہے کیا امید و بیم مجھے
کہ ڈوب ڈوب کے کشتی مری نکلتی ہے
عشق کے وسیع سمندر میں مجھے امید اور خوف کی کوئی پروا نہیں ہے، کیونکہ میری کشتی بار بار ڈوب کر بھی ابھر آتی ہے۔
8
झलक रही है सर-ए-शाख़-ए-मिज़ा ख़ून की बूँद
शजर में पहले समर से कली निकलती है
جھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوند
شجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے
پلکوں کی شاخ کے سرے پر خون کا ایک قطرہ چمک رہا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے درخت پر پھل آنے سے پہلے کلی نکلتی ہے۔
9
शब-ए-फ़िराक़ जो खोले हैं हम ने ज़ख़्म-ए-जिगर
ये इंतिज़ार है कब चाँदनी निकलती है
شب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگر
یہ انتظار ہے کب چاندنی نکلتی ہے
جدائی کی رات میں ہم نے اپنے جگر کے زخم کھول رکھے ہیں، اب بس یہ انتظار ہے کہ چاندنی کب نکلتی ہے۔
10
समझ तो लीजिए कहने तो दीजिए मतलब
बयाँ से पहले ही मुझ पर छुरी निकलती है
سمجھ تو لیجئے کہنے تو دیجئے مطلب
بیاں سے پہلے ہی مجھ پر چھری نکلتی ہے
کم از کم میری بات سمجھ تو لیجیے اور مجھے اپنا مقصد کہنے تو دیجیے؛ میرے بیان کرنے سے پہلے ہی مجھ پر چھری نکل آتی ہے۔
11
ये दिल की आग है या दिल के नूर का है ज़ुहूर
नफ़स नफ़स में मिरे रौशनी निकलती है
یہ دل کی آگ ہے یا دل کے نور کا ہے ظہور
نفس نفس میں مرے روشنی نکلتی ہے
کیا یہ دل کی آگ ہے یا دل کے نور کا ظہور ہے کہ میری ہر ایک سانس سے روشنی نکل رہی ہے۔
12
कहा जो मैं ने कि मर जाऊँगा तो कहते हैं
हमारे ज़ाइचे में ज़िंदगी निकलती है
کہا جو میں نے کہ مر جاؤں گا تو کہتے ہیں
ہمارے زائچے میں زندگی نکلتی ہے
جب میں نے کہا کہ میں مر جاؤں گا، تو وہ بولے کہ ہمارے زائچے میں تو زندگی لکھی ہے۔
13
समझने वाले समझते हैं पेच की तक़रीर
कि कुछ न कुछ तिरी बातों में फ़ी निकलती है
سمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریر
کہ کچھ نہ کچھ تری باتوں میں فی نکلتی ہے
سمجھ دار لوگ پُرپیچ باتوں کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ تمہاری گفتگو میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی خامی یا پیچیدگی ضرور نکل آتی ہے۔
14
दम-ए-अख़ीर तसव्वुर है किस परी-वश का
कि मेरी रूह भी बन कर परी निकलती है
دم اخیر تصور ہے کس پری وش کا
کہ میری روح بھی بن کر پری نکلتی ہے
آخری وقت میں کس پری جیسے محبوب کا خیال آ رہا ہے کہ میری روح بھی پری بن کر نکل رہی ہے؟
15
सनम-कदे में भी है हुस्न इक ख़ुदाई का
कि जो निकलती है सूरत परी निकलती है
صنم کدے میں بھی ہے حسن اک خدائی کا
کہ جو نکلتی ہے صورت پری نکلتی ہے
بت خانے میں بھی خدائی حسن کی ایک جھلک موجود ہے، کیونکہ وہاں سے جو بھی چہرہ سامنے آتا ہے وہ پری جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
16
मिरे निकाले न निकलेगी आरज़ू मेरी
जो तुम निकालना चाहो अभी निकलती है
مرے نکالے نہ نکلے گی آرزو میری
جو تم نکالنا چاہو ابھی نکلتی ہے
میرے نکالنے سے میری آرزو دل سے نہیں نکلے گی، لیکن اگر آپ اسے نکالنا چاہیں تو یہ اسی وقت نکل جائے گی۔
17
ग़म-ए-फ़िराक़ में हो 'दाग़' इस क़दर बेताब
ज़रा से रंज में जाँ आप की निकलती है
غم فراق میں ہو داغؔ اس قدر بیتاب
ذرا سے رنج میں جاں آپ کی نکلتی ہے
اے داغؔ، آپ جدائی کے غم میں اس قدر بے چین ہیں کہ ذرا سی بھی تکلیف پر آپ کی جان نکلنے لگتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
