شب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگر — داغ دہلوی
“In this night of separation, having laid bare the wounds of my heart, I wait in anticipation to see when the moonlight rises.”
معنی
جدائی کی رات میں ہم نے اپنے جگر کے زخم کھول رکھے ہیں، اب بس یہ انتظار ہے کہ چاندنی کب نکلتی ہے۔
تشریح
اردو شاعری کی خوبصورت روایت ہے کہ چاندنی ہجر کے زخموں کے لیے نمک کا کام کرتی ہے اور درد کو بھڑکا دیتی ہے۔ عاشق نے جدائی کی اندھیری رات میں اپنے دل کے تازہ زخم کھول کر رکھ دیے ہیں اور اب بے صبری سے چاندنی کے پھیلنے کا منتظر ہے۔ وہ اپنے دکھ سے بھاگنا نہیں چاہتا، بلکہ محبوب کی یاد کے اس جلتے ہوئے احساس کو پوری شدت سے سینے میں اتارنا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
