محیط عشق میں ہے کیا امید و بیم مجھے — داغ دہلوی
“What place have hope and fear for me in love's all-circling sea, when sinking, drowning time and again, my boat still rises free?”
معنی
عشق کے وسیع سمندر میں مجھے امید اور خوف کی کوئی پروا نہیں ہے، کیونکہ میری کشتی بار بار ڈوب کر بھی ابھر آتی ہے۔
تشریح
شاعر نے عشق کو ایک ایسے بے کنار سمندر سے تعبیر کیا ہے جہاں امید اور خوف دونوں کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ دل کی ناؤ عشق کے تند و تیز تھپیڑوں میں بار بار ڈوبتی ہے، مگر ہر مرتبہ فنا ہونے کے بجائے دوبارہ سطح پر ابھر آتی ہے۔ جب انسان محبت کے دکھ اور آزمائشیں سہتے سہتے اتنا عادی ہو جائے، تو اس کے دل سے طوفانوں کا سارا خوف مٹ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
