دم اخیر تصور ہے کس پری وش کا — داغ دہلوی

دم اخیر تصور ہے کس پری وش کا کہ میری روح بھی بن کر پری نکلتی ہے

“In this final breath, whose fairy-faced vision holds my mind, that even my soul departs, transformed into a fairy?”

— داغ دہلوی

معنی

آخری وقت میں کس پری جیسے محبوب کا خیال آ رہا ہے کہ میری روح بھی پری بن کر نکل رہی ہے؟

تشریح

یہ شعر نزع کے عالم میں عشق کے سحر انگیز اور لطیف اثر کو پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آخری سانسوں میں کسی پری چہرہ محبوب کا خیال دل و دماغ پر یوں چھایا کہ روح بھی اسی کے حسن و نزاکت میں ڈھل گئی۔ جان کنی کی تکلیف کے بجائے روح نے خود ایک پری کا روپ دھار لیا ہے اور بڑی خوبصورتی سے پرواز کر رہی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.