بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو — داغ دہلوی
بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو
مری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے
“Instead of a complaint, a blessing is all I bestow; what can I do, when from my lips only this will flow?”
— داغ دہلوی
معنی
شکوہ کرنے کے بجائے بھی میں اسے دعا ہی دیتا ہوں؛ میں کیا کروں، میری زبان سے بس یہی نکلتی ہے۔
تشریح
یہ شعر بے لوث محبت اور دل کی معصوم بے بسی کا دلنشین اظہار ہے۔ محبوب کے دیے ہوئے درد پر شکوہ کرنا فطری تھا، مگر عاشق کا دل اس قدر پاکیزہ ہے کہ زبان پر گلے کے بجائے بے ساختہ دعا ہی جاری ہوتی ہے۔ یہ دراصل عشق کا وہ لطیف مقام ہے جہاں رنجش اور کڑواہٹ کی جگہ صرف محبوب کی خیر خواہی لے لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
