غزل
صاف کب امتحان لیتے ہیں
صاف کب امتحان لیتے ہیں
یہ غزل محبوب کے پرفریب اور بے رحم امتحانات کے الم ناک درد کو بیان کرتی ہے، جہاں دلاسے دے کر عاشق کی جان اور گھر بار لوٹ لیا جاتا ہے۔ اس میں محبت میں ملنے والی بربادی، بے بسی اور غم کی گہری کیفیت کو پرتاثیر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
साफ़ कब इम्तिहान लेते हैं
वो तो दम दे के जान लेते हैं
صاف کب امتحان لیتے ہیں
وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں
وہ کبھی کھل کر امتحان نہیں لیتے، بلکہ فریب دے کر یا باتوں میں بہلا کر جان لے لیتے ہیں۔
2
यूँ है मंज़ूर ख़ाना-वीरानी
मोल मेरा मकान लेते हैं
یوں ہے منظور خانہ ویرانی
مول میرا مکان لیتے ہیں
انہیں میرا گھر برباد کرنا اس قدر منظور ہے کہ وہ اسے اجاڑنے کی خاطر ہی میرا مکان خرید رہے ہیں۔
3
तुम तग़ाफ़ुल करो रक़ीबों से
जानने वाले जान लेते हैं
تم تغافل کرو رقیبوں سے
جاننے والے جان لیتے ہیں
تم خواہ رقیبوں سے بے پرواہی یا نظر اندازی کا دکھاوا کرو، لیکن اصل بات جاننے والے حقیقت کو سمجھ ہی لیتے ہیں۔
4
फिर न आना अगर कोई भेजे
नामा-बर से ज़बान लेते हैं
پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے
نامہ بر سے زبان لیتے ہیں
اگر کوئی تمہیں دوبارہ بھیجے تب بھی واپس نہ آنا، کیونکہ وہ نامہ بر کی زبان چھین لیتے ہیں۔
5
अब भी गिर पड़ के ज़ोफ़ से नाले
सातवाँ आसमान लेते हैं
اب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالے
ساتواں آسمان لیتے ہیں
شدید کمزوری کی وجہ سے گرتے پڑتے ہوئے بھی میری فریادیں اب بھی ساتویں آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔
6
तेरे ख़ंजर से भी तो ऐ क़ातिल
नोक की नौ-जवान लेते हैं
تیرے خنجر سے بھی تو اے قاتل
نوک کی نوجوان لیتے ہیں
اے قاتل! نوجوان تیرے خنجر کی نوک کا بھی ڈٹ کر سامنا کرتے ہیں۔
7
अपने बिस्मिल का सर है ज़ानू पर
किस मोहब्बत से जान लेते हैं
اپنے بسمل کا سر ہے زانو پر
کس محبت سے جان لیتے ہیں
محبوب نے اپنے زخمی عاشق کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا ہے، اور دیکھو وہ کتنی محبت سے اس کی جان لے رہے ہیں۔
8
ये सुना है मिरे लिए तलवार
इक मिरे मेहरबान लेते हैं
یہ سنا ہے مرے لیے تلوار
اک مرے مہربان لیتے ہیں
میں نے سنا ہے کہ میرے خلاف تلوار اٹھائی جا رہی ہے، اور یہ تلوار اٹھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ میرے ہی ایک مہربان دوست ہیں۔
9
ये न कह हम से तेरे मुँह में ख़ाक
इस में तेरी ज़बान लेते हैं
یہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاک
اس میں تیری زبان لیتے ہیں
ہم سے یہ مت کہو کہ 'تمہارے منہ میں خاک پڑے'، کیونکہ اس کہنے کے پردے میں ہم تمہاری زبان کو اپنا بنا لیتے ہیں۔
10
कौन जाता है उस गली में जिसे
दूर से पासबान लेते हैं
کون جاتا ہے اس گلی میں جسے
دور سے پاسبان لیتے ہیں
اس گلی میں بھلا کون جاتا ہے جہاں چوکیدار دور ہی سے پکڑ لیتے ہیں۔
11
मंज़िल-ए-शौक़ तय नहीं होती
ठेकियाँ ना-तवान लेते हैं
منزل شوق طے نہیں ہوتی
ٹھیکیاں ناتوان لیتے ہیں
شوق اور محبت کی منزل کبھی آسانی سے طے نہیں ہوتی، کیونکہ کمزور اور لاغر لوگ راستے میں جگہ جگہ سہاروں کے محتاج رہتے ہیں۔
12
कर गुज़रते हैं हो बुरी कि भली
दिल में जो कुछ वो ठान लेते हैं
کر گزرتے ہیں ہو بری کہ بھلی
دل میں جو کچھ وہ ٹھان لیتے ہیں
وہ اپنے دل میں جو کچھ طے کر لیتے ہیں اسے کر گزرتے ہیں، خواہ وہ کام برا ہو یا اچھا۔
13
वो झगड़ते हैं जब रक़ीबों से
बीच में मुझ को सान लेते हैं
وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے
بیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں
محبوب جب بھی رقیبوں سے جھگڑتے ہیں، تو خواہ مخواہ بیچ میں مجھے بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔
14
ज़िद हर इक बात पर नहीं अच्छी
दोस्त की दोस्त मान लेते हैं
ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں
ہر بات پر ضد کرنا اچھا نہیں ہوتا، دوست اپنے دوست کی بات مان لیا کرتے ہیں۔
15
मुस्तइद हो के ये कहो तो सही
आइए इम्तिहान लेते हैं
مستعد ہو کے یہ کہو تو سہی
آئیے امتحان لیتے ہیں
کم از کم تیار ہو کر یہ تو کہیے کہ تشریف لائیے، ہم آپ کا امتحان لیتے ہیں۔
16
'दाग़' भी है अजीब सेहर-बयाँ
बात जिस की वो मान लेते हैं
داغؔ بھی ہے عجیب سحر بیاں
بات جس کی وہ مان لیتے ہیں
داغؔ بھی گفتگو کے عجیب جادوگر ہیں کہ محبوب ان کی ہر بات مان لیتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
