یہ سنا ہے مرے لیے تلوار — داغ دہلوی
“I hear that for my sake a sword is drawn, by none other than a gracious friend of mine.”
معنی
میں نے سنا ہے کہ میرے خلاف تلوار اٹھائی جا رہی ہے، اور یہ تلوار اٹھانے والے کوئی اور نہیں بلکہ میرے ہی ایک مہربان دوست ہیں۔
تشریح
اس شعر میں چھپی چوٹ اور گہرا طنز دل پر سیدھا اثر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کے قتل کے لیے جس نے تلوار سنبھالی ہے، وہ کوئی غیر یا کھلم کھلا دشمن نہیں بلکہ خود کو مہربان کہنے والا ایک قریبی دوست ہے۔ لفظ ’مہربان‘ یہاں شکوے کی ایسی دھیمی آنچ پیدا کرتا ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اپنوں کی دی ہوئی بے وفائی کسی بھی اجنبی کے وار سے کہیں زیادہ جان لیوا ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
