صاف کب امتحان لیتے ہیں — داغ دہلوی

صاف کب امتحان لیتے ہیں وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں

“When do they ever put me to an open trial? / Beguiling with sweet breath, they take my very life.”

— داغ دہلوی

معنی

وہ کبھی کھل کر امتحان نہیں لیتے، بلکہ فریب دے کر یا باتوں میں بہلا کر جان لے لیتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کے اندازِ ستم کی دلکش نزاکت کو بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبوب کبھی کھل کر وفاداری کی آزمائش نہیں لیتا، بلکہ پیار بھری باتوں کا جھانسا دے کر اور دلاسا دے کر خاموشی سے جان ہی نکال لیتا ہے۔ یہاں 'دم دینا' کا محاورہ کمال کا برتا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ محبت میں سب سے جان لیوا وہ وار ہوتا ہے جو شیریں لہجے اور اپنائیت کے پردے میں کیا جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 16Next →