وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے — داغ دہلوی

وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے بیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں

“Whenever they quarrel with my rivals, they drag me into the middle of the fray.”

— داغ دہلوی

معنی

محبوب جب بھی رقیبوں سے جھگڑتے ہیں، تو خواہ مخواہ بیچ میں مجھے بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبت کی ایک دلچسپ اور درد بھری ستم ظریفی بیان کی گئی ہے۔ محبوب جب اپنے رقیبوں سے الجھتا ہے تو سچے عاشق کو خواہ مخواہ بیچ میں گھسیٹ کر اپنی جھنجھلاہٹ کا شکار بنا لیتا ہے۔ 'سان لینا' کا محاورہ اس لاچاری کو ظاہر کرتا ہے جہاں عاشق دونوں فریقوں کی تکرار میں ناحق پس جاتا ہے، اور اس کا حصہ فقط اتنی سی توجہ بنتی ہے جو کسی ڈھال یا مہرے کو دی جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.