پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے — داغ دہلوی
“Do not return again, even if you are sent; from the messenger, they take away his very tongue.”
معنی
اگر کوئی تمہیں دوبارہ بھیجے تب بھی واپس نہ آنا، کیونکہ وہ نامہ بر کی زبان چھین لیتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر نامہ بر کو دی گئی ایک پراثر اور تیکھی تنبیہ ہے۔ شاعر قاصد کو خبردار کر رہا ہے کہ محبوب کے دربار کا رخ دوبارہ مت کرنا، کیونکہ وہاں صرف پیغام نہیں لیا جاتا بلکہ راز لے جانے والے کی زبان تک کاٹ لی جاتی ہے۔ یہ محبوب کے جلال اور عشق کے راستے کی اس بے رحم حقیقت کو بیان کرتا ہے جہاں محبت کا پیامبر بننا اپنی ہی آواز گنوا دینے کے مترادف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
