اپنے بسمل کا سر ہے زانو پر — داغ دہلوی

اپنے بسمل کا سر ہے زانو پر کس محبت سے جان لیتے ہیں

“With the head of their slain lover resting upon their lap, with what tender affection do they take a life!”

— داغ دہلوی

معنی

محبوب نے اپنے زخمی عاشق کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا ہے، اور دیکھو وہ کتنی محبت سے اس کی جان لے رہے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں ستم اور چاہت کا کتنا دلکش تضاد باندھا گیا ہے کہ محبوب جان بھی لے رہا ہے تو عاشق کا سر اپنے زانو پر تھام کر۔ روایتی شاعری میں معشوق کے ہاتھوں قربان ہونا کوئی المیہ نہیں بلکہ معراجِ عشق ہے، جہاں قاتل کی بے اعتنائی بھی الفت کا روپ دھار لیتی ہے۔ شاعر اسی حیرت اور تسکین کو بیان کر رہا ہے کہ محبوب کی آغوش میسر ہو تو یہ جان دینا بھی کتنا شیریں اور دلپذیر بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.