تم تغافل کرو رقیبوں سے — داغ دہلوی

تم تغافل کرو رقیبوں سے جاننے والے جان لیتے ہیں

“Feign indifference though you may toward the rivals; those who know the truth will always understand.”

— داغ دہلوی

معنی

تم خواہ رقیبوں سے بے پرواہی یا نظر اندازی کا دکھاوا کرو، لیکن اصل بات جاننے والے حقیقت کو سمجھ ہی لیتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کی پردہ داری اور بناوٹی بے اعتنائی کو بڑے دلنشیں انداز میں برتا گیا ہے۔ عاشق مسکرا کر کہتا ہے کہ رقیبوں کے سامنے انجان بننے کا ناٹک بے سود ہے، کیونکہ دل کے رازداں نگاہوں کے ہر اشارے کو پہچان لیتے ہیں۔ محبت کی خاموش زبان اتنی گہری ہوتی ہے کہ یہ ظاہری تغافل حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.