یہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاک — داغ دہلوی
“Do not say to me, 'May dust fill your mouth'—for in this curse, I take your very tongue.”
معنی
ہم سے یہ مت کہو کہ 'تمہارے منہ میں خاک پڑے'، کیونکہ اس کہنے کے پردے میں ہم تمہاری زبان کو اپنا بنا لیتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں عاشق نے محبوب کی خفگی اور جھنجھلاہٹ میں سے بھی شرارت اور قربت کا پہلو تراش لیا ہے۔ 'تیرے منہ میں خاک' ایک عام بددعا یا ڈانٹ ہے جو کسی کی ناگوار بات پر بولی جاتی ہے، لیکن عاشق اسے بوسے کی لذت میں بدل دیتا ہے۔ وہ شوخی سے کہتا ہے کہ جب تم یہ کہتے ہو تو گویا ہم تمہاری زبان اپنے منہ میں لے لیتے ہیں، یعنی تمہاری ترش کلامی بھی ہمارے لیے لمس اور وصل کا ایک بہانہ بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
