غزل
نام یوں پستی میں بالا تر ہمارا ہو گیا
نام یوں پستی میں بالا تر ہمارا ہو گیا
Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI
نغمہ سنیں
1
नाम यूँ पस्ती में बाला-तर हमारा हो गया
जिस तरह पानी कुएँ की तह में तारा हो गया
نام یوں پستی میں بالا تر ہمارا ہو گیا
جس طرح پانی کنویں کی تہ میں تارا ہو گیا
ہمارا نام پستی میں رہ کر بھی اس طرح بلند ہو گیا، جیسے کنویں کی گہرائی کے پانی میں تارا چمکنے لگتا ہے۔
2
मेरे नालों से जो पानी संग-ए-ख़ारा हो गया
कोह के चश्मों का आँसू हर शरारा हो गया
میرے نالوں سے جو پانی سنگِ خارا ہو گیا
کوہ کے چشموں کا آنسو ہر شرارا ہو گیا
میری آہوں اور نالوں سے جو پانی تھا وہ سخت پتھر بن گیا، اور پہاڑ کے چشموں کا ہر آنسو شرارہ بن گیا۔
3
ज़िक्र-ए-दुनिया नक़्श-ए-मुर्दा को हुआ आब-ए-हयात
मर के ये सीमाब फिर ज़िंदा दोबारा हो गया
ذکرِ دنیا نقشِ مردہ کو ہوا آبِ حیات
مر کے یہ سیماب پھر زندہ دوبارا ہو گیا
دنیا کا ذکر مردہ نقش کے لیے آبِ حیات بن گیا، اور یہ سیماب مر کر پھر سے دوبارہ زندہ ہو گیا۔
4
दाँत यूँ चमके हँसी में बात उस मह-पारा के
मैं ने जाना माह-ए-ताबाँ पारा-पारा हो गया
دانت یوں چمکے ہنسی میں بات اُس مہ پارہ کے
میں نے جانا ماہِ تاباں پارہ پارا ہو گیا
اُس چاند جیسے محبوب کی بات اور ہنسی میں دانت یوں چمکے کہ مجھے لگا جیسے چمکتا ہوا چاند ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہو۔
5
हर हुबाब-ए-बहर की खुल जाएगी तारा सी आँख
अक्स-अफ़गन गर ये रुख़-ए-रौशन तुम्हारा हो गया
ہر حبابِ بحر کی کھل جائے گی تارا سی آنکھ
عکس افگن گر یہ رخِ روشن تمھارا ہو گیا
سمندر کے ہر بلبلے کی آنکھ تارے کی طرح کھل جائے گی، اگر تمھارا یہ روشن چہرہ اس پر اپنا عکس ڈال دے۔
6
शैख़ ने इफ़्तारियों के तर निवाले खाए ख़ूब
है मगर रोज़ों की गर्मी से छुहारा हो गया
شیخ نے افطار یوں کے تر نوالے کھائے خوب
ہے مگر روزوں کی گرمی سے چھوہارا ہو گیا
شیخ نے افطار کے رسیلے اور تر نوالے خوب جی بھر کر کھائے، مگر پھر بھی روزوں کی گرمی سے سوکھ کر چھوہارا بن گیا۔
7
एक दम भी हम को जीना हिज्र में था नागवार
पर उमीद-ए-वस्ल में बरसों गवारा हो गया
ایک دم بھی ہم کو جینا ہجر میں تھا ناگوار
پر اُمیدِ وصل میں برسوں گوارا ہو گیا
جدائی میں ایک لمحہ بھی جینا مجھے گوارا نہ تھا، مگر وصل کی اُمید میں برسوں گزارنا بھی قابلِ برداشت ہو گیا۔
8
है मक़ाम-ए-ज़िंदगी ज़ेर-ए-दम-ए-शमशीर-ए-मर्ग
हो गया जिस तरह कोई दम गुज़ारा हो गया
ہے مقامِ زندگی زیرِ دمِ شمشیرِ مرگ
ہو گیا جس طرح کوئی دم گزارا ہو گیا
زندگی کا ٹھکانا موت کی تلوار کی دھار کے نیچے ہے؛ جیسے بھی کوئی ایک لمحہ گزر جائے، وہی گزارا سمجھ لو۔
9
रश्क से उस ज़ुल्फ़ के क्या शक है बिखरे जो अंबर
बल्कि जल कर सोख़्ता अंबर भी सारा हो गया
رشک سے اُس زلف کے کیا شک ہے بکھرے جو عنبر
بلکہ جل کر سوختہ عنبر بھی سارا ہو گیا
اُس زلف پر رشک کے باعث عنبر کا بکھر جانا کوئی تعجب نہیں؛ بلکہ جل کر سوختہ ہو کر سارا عنبر ہی ختم ہو گیا۔
10
दिल पे ज़ख़्मों की तरक़्क़ी से हुई और इक बहार
आगे था सद-बर्ग ये गुल अब हज़ारा हो गया
دل پہ زخموں کی ترقی سے ہوئی اور اک بہار
آگے تھا صد برگ یہ گل اب ہزارا ہو گیا
زخموں کے بڑھنے سے دل پر ایک اور بہار آ گئی؛ پہلے یہ پھول سو پتیوں والا تھا، اب ہزار پتیوں والا ہو گیا۔
11
ज़ुल्मत-ए-इस्याँ से मेरे बन गया शब-ए-रोज़-ए-हश्र
आफ़्ताब इक नेज़े पर बूम-ए-दार तारा हो गया
ظلمتِ عصیاں سے میرے بن گیا شبِ روزِ حشر
آفتاب اک نیزے پر بومِ دار تارا ہو گیا
میرے گناہوں کی تاریکی سے قیامت کا دن بھی رات بن گیا؛ سورج، جو ایک نیزے کے برابر بلند تھا، سولی کے تختے پر ایک سیاہ ستارے کی مانند ہو گیا۔
12
दी शहादत नशा की सुर्ख़ी से चश्म-ए-यार ने
ख़ून रहा अपना न पिन्हाँ आशकारा हो गया
دی شہادت نشہ کی سرخی سے چشمِ یار نے
خون رہا اپنا نہ پنہاں آشکارا ہو گیا
یار کی آنکھ نے اپنے نشیلے سرخ رنگ سے گواہی دے دی؛ اب میرا خون چھپا نہ رہ سکا اور کھل کر ظاہر ہو گیا۔
13
ज़ौक़ इस बहर-ए-बक़ा में कश्ती-ए-उम्र-ए-रवाँ
जिस जगह पर जा लगी वो ही किनारा हो गया
ذوقؔ اس بحرِ بقا میں کشتیِ عمرِ رواں
جس جگہ پر جا لگی وہ ہی کنارا ہو گیا
اے ذوق، اس بقا کے سمندر میں رواں زندگی کی کشتی جس جگہ جا کر لگی، وہی اس کا کنارا بن گیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
