ذوقؔ اس بحرِ بقا میں کشتیِ عمرِ رواں — شیخ ابراہیم ذوق
“O Zauq, in this ocean of eternity, the fleeting boat of life— wherever it came to rest, that very place became its shore.”
معنی
اے ذوق، اس بقا کے سمندر میں رواں زندگی کی کشتی جس جگہ جا کر لگی، وہی اس کا کنارا بن گیا۔
تشریح
ذوقؔ یہاں زندگی کو ایک بہتی ہوئی کشتی سے تشبیہ دیتے ہیں جو بقا یعنی ہمیشگی کے وسیع سمندر میں رواں ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس کشتی کا کوئی مقررہ کنارہ نہیں — جہاں بھی یہ جا کر ٹھہر جائے، وہی اُس کی منزل اور ساحل بن جاتا ہے۔ اِس میں ایک گہری قبولیت ہے کہ موت جہاں بھی آئے وہی زندگی کا اختتام اور سکون کا ٹھکانہ ہے؛ انسان کو اپنے سفر کے ٹھہراؤ ہی کو اپنی منزل مان لینا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
