میرے نالوں سے جو پانی سنگِ خارا ہو گیا — شیخ ابراہیم ذوق

میرے نالوں سے جو پانی سنگِ خارا ہو گیا کوہ کے چشموں کا آنسو ہر شرارا ہو گیا

“The water that from my laments turned to solid stone, Each spark became a teardrop in the mountain springs that moan.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میری آہوں اور نالوں سے جو پانی تھا وہ سخت پتھر بن گیا، اور پہاڑ کے چشموں کا ہر آنسو شرارہ بن گیا۔

تشریح

ذرا سوچیے کہ شاعر کا نالہ کتنا شدید ہے کہ اُس کے رونے سے بہتا پانی جم کر سخت پتھر بن جاتا ہے! یہاں وہ اپنے غم کی تپش اور گہرائی کو قدرت پر الٹ دیتا ہے — اُس کی آگ اتنی تیز ہے کہ پہاڑ کے چشموں سے اُٹھنے والی ہر چنگاری آنسو میں بدل جاتی ہے۔ یہ درد اور حرارت کا ایسا کھیل ہے جہاں پتھر اور پانی، آگ اور آنسو اپنی جگہ بدل لیتے ہیں، اور شاعر کا دکھ پوری کائنات کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.