ذکرِ دنیا نقشِ مردہ کو ہوا آبِ حیات — شیخ ابراہیم ذوق
“The tale of the world became the water of life for the dead man's form, This quicksilver, having died, once more came back alive again.”
معنی
دنیا کا ذکر مردہ نقش کے لیے آبِ حیات بن گیا، اور یہ سیماب مر کر پھر سے دوبارہ زندہ ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا کا ذکر، اس کی باتیں، ایک مُردہ جیسے پڑے انسان کے لیے آبِ حیات بن گئیں۔ جیسے پارا کبھی ٹھہرتا نہیں، ویسے ہی یہ انسان دنیاوی خیال پاتے ہی پھر بے چین ہو کر، گویا مر کے دوبارہ زندہ ہو اٹھا۔ گہری بات یہ ہے کہ انسان کی دنیا سے وابستگی اتنی سخت ہے کہ موت کے قریب بھی دنیا کا نام سن کر وہ پھر جاگ اٹھتا ہے — یہ دنیا کی کشش اور انسانی کمزوری دونوں پر ایک لطیف طنز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
