ایک دم بھی ہم کو جینا ہجر میں تھا ناگوار — شیخ ابراہیم ذوق
“Even a single breath of life in parting was unbearable to me, yet in the hope of union, long years grew bearable to me.”
معنی
جدائی میں ایک لمحہ بھی جینا مجھے گوارا نہ تھا، مگر وصل کی اُمید میں برسوں گزارنا بھی قابلِ برداشت ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں عشق کا وہ عجیب تضاد چھپا ہے جسے ہر عاشق محسوس کرتا ہے۔ جدائی کا ایک لمحہ بھی ناقابلِ برداشت تھا، سانس لینا دشوار تھا — مگر جیسے ہی وصل کی امید دل میں جاگی، وہی برسوں کی جدائی بھی گوارا ہو گئی۔ شاعر کہتا ہے کہ امید میں وہ طاقت ہے جو ناممکن کو بھی سہنے کے قابل بنا دیتی ہے؛ درد وہی رہتا ہے، مگر امید اسے مٹھاس میں بدل دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
