دی شہادت نشہ کی سرخی سے چشمِ یار نے — شیخ ابراہیم ذوق
“The beloved's eye bore witness through the redness of its wine-drunk gaze; My blood could stay concealed no more—it rose, laid bare, to open view.”
معنی
یار کی آنکھ نے اپنے نشیلے سرخ رنگ سے گواہی دے دی؛ اب میرا خون چھپا نہ رہ سکا اور کھل کر ظاہر ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی نشے میں ڈوبی، سرخ آنکھیں خود گواہ بن گئیں — اُن کی سرخی گویا عاشق کے چھپے ہوئے عشق کی شہادت دے رہی ہے۔ جو درد اور خونِ دل اب تک پوشیدہ تھا، وہ اب چھپ نہ سکا اور سب پر عیاں ہو گیا۔ یہاں آنکھ کی سرخی اور خون کی سرخی کا خوبصورت ربط ہے — محبت ایسی چیز ہے جو آخرکار چہرے اور نگاہوں سے ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
